29 جون 2015 - 01:05
 سعودی عرب کا نیا چہرہ ساری دنیا نے دیکھ لیا اب ویکی لیکس کی آل سعود کے بارے میں نئے باتیں

ویکی لیکس نے جدید دستاویزات منتشر کر کے نہ صرف آل سعود کی حکومت کے کاخ میں سیاسی زلزلہ پیدا کیا ہے بلکہ علاقے کی اس تخریب کار حکومت کے چہرے سے نقاب ہٹائی ہے مشرق وسطی کے علاقے میں اس ملک کے تخریبی کردار اور سلفی گروہوں اور صہیونی حکومت سے اس کی دوستی نے خاندان آل سعود کی رہی سہی عزت کو بھی خاک میں ملا دیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ویکی لیکس کی سایٹ نے سعودی عرب کی وزارت امور خارجہ کے محرمانہ خطوط کے اسناد کو نشر کر کے مشرق وسطی کے اس محتاط عرب ملک کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کو عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا محور بنا دیا ہے ۔ ان اسناد کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ ابھی تک کام کرنے والی ٹیمیں سعودی عرب کی ان حکومتی اسناد کے مطالعے اور ترجمے میں مشغول ہیں ۔اسی دوران سعودی عرب نے ان اسناد کو جعلی قرار دے کر یہ اپیل کی ہے کہ لوگ ان اسناد پر توجہ نہ دیں اور ان کو دوبارہ منتشر نہ کریں ۔ ان اسناد میں بہت سارے موضوعات جیسے سعودی عرب کی ایران کے جوہری سمجھوتے کے سلسلے میں تشویش ،سعودی عرب کا ایران کی علاقائی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش ،اور اس کے لیے سرمایہ کاری ،سعودی عرب کی ایران کے اندر جو اپوزیشن ہے اس کی حمایت کی کوشش ، شاہزادوں کی وسیع پیمانے پر آوارگی اور فضول خرچی ، اور علاقے کے ملکوں میں سعودی عرب کی مداخلتیں قابل توجہ ہیں ۔ ذیل کے مضمون میں اسی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

ویکی لیکس میں منتشر اسناد کی صحت

تجربہ نے ثابت کیا ہے کہ سری اور محرمانہ اسناد کس قدر ویکی لیکس کے ہاتھ لگتی ہیں اس کا تعلق امریکہ کی اندرونی سیاست اور سلامتی سے ہے ،لہذا یہ اسناد دقیق اور درست ہونے کے برخلاف جانبدارانہ نظریے کی حامل بھی ہوتی ہیں ۔محرمانہ اسناد کے انتشار پر سعودی عرب کی نگاہ ،

ویکی لیکس کی سایت نے سری اسناد منتشر کر کے سعودی عرب کی چھپی ہوئی ماہیت کو آشکار کر دیا ہے ۔اس وقت سعودی عرب کی حکمران جماعت خاص کر خود بادشاہ اور ولی عہد ان اسناد کے انتشار کے سلسلے میں شک اور غصے کی نگاہ رکھتے ہیں ۔ سعودی عرب شدت کے ساتھ وحشت زدہ ہے اس لیے کہ اس حکومت کی پوزیشن متزلزل ہو گئی ہے ۔اسی دوران سعودی عرب کی وزارت خارجہ کوشش کر رہی ہے کہ ان اسناد کی صحت سے انکار کرے ،لیکن واقعیت یہ ہے کہ  ویکی لیکس کی منتشر شدہ اسناد کا بڑا حصہ موجودہ حقائق کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔

اسناد کے منتشر کرنے کے داخلی نتائج

ملک سلمان کے قصر السدیری کے قبیلے سے منسوب ہونے کے پیش نظر اور نیز الشمری قبیلے کو الگ کر دینے کی وجہ سے اس وقت سعودی عرب کی حکمران جماعت کے اندر شدید اختلاف نظر پایا جاتا ہے ۔اسناد ایسے وقت میں نشر ہو رہی ہیں کہ حکمران ٹولے کے درمیان اختلاف نظر نے کہ جو داخلی مسائل اور خارجی بحرانوں کے سلسلے میں جیسے یمن کے مسئلے میں شام اور عراق کے مسئلے میں  ہے اس نے علاقے میں سعودی عرب کی پوزیشن کو شدت کے ساتھ متزلزل کر دیا ہے ۔ اور ویکی لیکس کے ذریعے سعودی عرب کی مزید اسناد منتشر ہوتی ہیں تو اس حکومت کو ایک مکمل بحران کا سامنا ہو گا ۔

اسناد کی اشاعت اور حکومت میں قدرت کی جنگ

اس وقت بہت سارے سعودی شاہزادے جو ملک سلمان اور اس کے بیٹے کی حکومت پر معترض ہیں ان کی کوشش ہے کہ بادشاہ کے رتبے اوراختیارات میں کمی کریں ۔ان اسناد کی اشاعت نے حکومتی ٹولے کے اندر اختلافات کو مزید شدید کر دیا ہے ۔لہذا توقع کی جا رہی ہے کہ آیندہ مہینوں میں وزارت خارجہ اور سعودی عرب کی پالیسیوں کے بارے میں زیادہ اسناد کی اشاعت کے ساتھ حکومتی جماعت میں اختلاف نظر میں اور وسعت پیدا ہو جائے گی ۔

اسناد کی اشاعت کا شہریوں کے نظریے اور سعودی عرب کی اقلیتی سوسائٹی پر اثر

ان اسناد نے علاقے کی ملتوں اور اسلامی ملکوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب بر خلاف اس کے کہ خود کو جہان اسلام کا رہبر بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ہے لیکن عالمی حوادث میں اس کا کردار مکمل تخریبی تھا اور اب بھی ہے ۔

سعودی عرب کی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ پر نظارت رکھے اور ٹی وی وغیرہ کو نٹرول کرے ،لیکن ٹی وی نے سعودی عرب کے شہریوں کے سامنے ایک وسیع فضا باز کر رکھی ہے ۔اسی دوران حکومت آل سعود کے مخالف گروہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے افکار عمومی ک آگاہ کرنے کی کوشش میں ہیں ،لہذا اقلیتوں خاص کر شیعوں  اور روشن فکروں کی نظر   آل سعود کے سلسلے میں زیادہ منفی ہو جائے گی ،اور سعودی عرب کی مداخلتوں کے مقابلے میں علاقے میں عوامی تحریکوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔

اسناد کی اشاعت کے بین الاقوامی اور علاقائی نتائج /سعودی عرب کا ایران کے ساتھ رابطہ 

انقلاب اسلامی کی کامیابی کوشش رہی ہے کہ اقتصادی ،سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی ظرفیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے انقلاب اسلامیء ایران کا مقابلہ کرے ، منتشر شدہ حالیہ اسناد اور اس ملک کی صہیونی حکومت کے ساتھ دوستی ،علاقے کے مسائل میں  اور خاص کر ایران اور جوہری مذاکرات کے بارے میں ،سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکومت شدت کے ساتھ اس کوشش میں ہے کہ علاقے میں جمہوریء اسلامی ایران کو نیچا دکھائے ۔اس کے علاوہ ویکی لیکس کے اسناد سےپتہ چلتا ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران علاقے میں سعودی عرب کا کردار تخریب کاری پر مبنی رہا ہے اور اس نے بے پناہ کوشش کی ہے کہ علاقے کے سیاسی ڈھانچے کو ریاض کے مفادات میں کرنے کے لیے اسے سبو تاژ کر دے۔

 ملت ایران کے سامنے یہ بات آئنے کی طرح صاف ہے کہ آل سعود کی حکومت ہمیشہ سے ایران کے لیے بحران پیدا کرتی رہی ہے ۔چنانچہ پوری جنگ تحمیلی کے دوران سعودی عرب نے دسیوں ارب ڈالر صدام بعثی کو دیے ۔ اسی وجہ ان اسناد کی اشاعت نے آل سعود کی حکومت کو ایران کے سلسلے میں مشکل حالات سے دو چار کر دیا ہے ۔

اسناد کی اشاعت کے علاقائی اثرات

ان اسناد کی اشاعت اس بات کی علامت ہے کہ آل سعود کی حکومت کا کردار علاقے کے مسائل میں سراسر تخریبی رہا ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ویکی لیکس ااے چل کر سعودی عرب کی دہشت گردو کے ساتھ دوستی پر مبنی اسناد کی اشاعت کرے گا ۔یہ سلسلہ علاقے کی سطح پر آل سعود کے خلاف نفرت میں اضافہ کر سکتا ہے ۔اس ماحول میں ایسا نظر آتا ہے کہ سعودی عرب مستقبل میں مجبور ہو  گا کہ اپنی سیاسی فتار میں تبدیلی کرے ۔ اگر چہ ان تبدیلیوں کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے لیکن سعودی عرب مجبور ہے کہ علاقے میں زیادہ معتدل سیاست اختیار کرے اور خطر ناک طریقہ اپنانے سے دست بردار ہو جائے ۔

اسرائیل کے ساتھ رابط

صہیونی حکومت کو سعودی عرب کی مالی امداد سعودی عرب کے سیاسی دیوالیے کی علامت ہے ، اس حکومت کی کوشش ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کے ذریعے مغربی ممالک میں اور اسرائیل کے دوست ملکوں میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن کو علاقے میں دوبارہ بحال کرے ۔ اس کے ساتھ ہی آل سعود کی حکومت اور اسرائیل کی حکومت کے درمیان مخفی تعاون اور دوستی کی اسناد اگر شایع ہو جائیں تو سعودی عرب کو اپنی پہچان کے کھو دینے کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

خلیج فارس کے ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے روابط کے اثرات

اگر مستقبل میں مزید اسناد منتشر ہوتی ہیں کہ جن کے ذریعے سعودی عرب کا خلیج فارس تعاون کونسل کے  ملکوں کے سلسلے میں جیسے قطر کے سلسلے میں تخریبی کردار آشکار ہو جائے  تو اس کونسل میں دراڑ پڑ جائے گی اور حتی ممکن ہے کہ یہ کونسل ختم ہو جائے ۔لہذا مزید اسناد کے انتشار کا انتظار کر نا چاہیے کہ جو سعودی عرب کے تخریبی کردار سے پردہ اٹھائیں گی ،تا کہ ان کی روشنی میں سعودی عرب کی سیہاسی اثر پذیری اور تنہائی کا اندازہ لگایا جا سکے ۔

علاقے کے عمومی افکار پر اثرات

علاقے کی عرب ملتوں اور اسلامی ممالک کے سامنے صاف ہے کہ سعودی عرب اس کے برخلاف کہ اس کوشش میں ہے کہ خود کو اسلامی رہبر کے عنوان سے پیش کرے ،لیکن اس کا دنیائے اسلام کے تمام حوادث میں تخریبی کردار رہا ہے اور اب بھی ہے ۔ ایسی حالت میں اسناد کی اشاعت سے کہ جب صہیونی حکومت اور تکفیری سلفی گروہوں کے ساتھ اس کے دوستانہ روابط ہیں اس ملک کے خلاف غم و غصے کی لہر میں شدت آئے گی ۔اس وقت بھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب علاقے کی قوموں اور حکومتوں کی نزدیک اپنی پوزیشن کھو چکا ہے ۔

سعودی عرب کے خارجی روابط پر اسناد کی اشاعت کے اثرات /یورپ کے ساتھ روابط

یورپ کے ممالک سعودی عرب کے ساتھ اپنے روابط کو اپنے قومی مفادات کی خاطر آگے بڑھاتے ہیں ؛پس ویکی لیکس کا محرمانہ اسناد کو نشر کرنا ان ملکوں کے سعودی عرب کے ساتھ روابط پر اثر انداز نہیں ہو گا ۔لیکن ان اسناد سے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بعض یورپی ملکوں میں جو دہشت گردوں نے جو دھماکے کیے ہیے ان میں سعودی عرب کا ہاتھ رہا ہے ۔اس صورت میں یورپی ممالک سعودی عرب کے سلسلے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے  ۔

ان اسناد کی اشاعت کے بعد یورپی ملکوں کو یہ پتہ چلے گا کہ سعودی عرب دہشت گرد گروہوں کے پیدا ہونے کا مرکز ہے ۔ دوسری سطح پر ان اسناد کے مزید اشاعت کے ساتھ سعودی عرب کے خلاف یورپ کے عام لوگوں کا غیض و غضب بھڑک اٹھے گا ۔

امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ روابط

ان اسناد کی اشاعت کو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک طرح کا غیر آشکار ٹکراو سمجھا جا سکتا ہے ۔اس صورت میں گویا امریکی سعودیہ والوں کے بحران پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔

ایک طرف امریکہ کو سعودی عرب کی پالیسیوں کے بارے سب کچھ معلوم ہے اور ان اسناد کی اشاعت سے ان دو کے روابط پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔اگر چہ اس وقت کچھ اختلافات میں امریکہ اور سعودی عرب میں شدت اا گئی ہے ۔لیکن سعودی عرب کو آیدہ انتخابات میں جمہوری خواہوں کی کامیابی کا انتظار ہے تا کہ اس بنیاد پر امریکہ کے ساتھ اپنے روابط کو دوبارہ بہتر بنائے ۔

دوسری جانب اسناد کی اشاعت کے پیش ننظر امریکہ کے عمومی افکار سعودی عرب کے خلاف بھڑک اٹھیں گے ۔لیکن ریاض کے سلسلے میں واشنگٹن کی خارجی سیاست ان اسناد کی اشاعت سے زیادہ متائثر نہیں ہو گی ۔

دوسرے پہلو سے ان اسناد کی اشاعت ایک طرح سے امریکہ اور سعودی عرب  کے درمیان اختلاف کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔چنانچہ سعودی عرب کے ولی عہد کے جاشین کا حال ہی میں روس کا دورہ اور ریاض اور ماسکو کے درمیان سمجھوتوں کے ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب واشنگٹن سے دوری اختیار کرنے کے در پے ہے ۔یہ مسئلہ  سعودی عرب کی شناخت کو تزلزل کا شکار بنا سکتا ہے اس لیے کہ یہ حکومت شدت کے ساتھ امریکہ اور مغرب کے ساتھ وابستہ ہے اور سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کسی بھی طرح کا فاصلہ سعودی عرب کے اندرونی بحران میں شدت پیدا کرے گا ماضی میں امریکہ نے بار ہا سعودی عرب کی علاقائی اور اندرونی پالیسیوں پر تنقید کی ہے یہاں تک کہ باراک او باما نے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں پر ان کے نظام کے قبایلی ہونےاور اور ان میں جمہوریت نہ ہونے ی بنا پر تنقید کی ہے ۔ان اسناد کی اشاعت کو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان غیر آشکار ٹکرا و قرار دیا جا سکتا ہے ۔اسی ان اسناد کی اشاعت سعودی عرب کی علاقائی سیاست میں بحران پیدا کرنے کا مقدمہ بن سکتی ہے ۔حق۲یقت میں ان حالات میں امریکی سعودی عرب کے لیے بحران ایجاد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔چنانچہ لیبیا ، شام ، عراق جیسے ملکوں کے لیے امریکہ نے بڑا منصوبہ بنایا تھا اور آج سعودی عرب کی باری ہے ۔

چین اور روس کے ساتھ سعودی عرب کے روبط پر اثرات 

اس چیز کے پیش نظر کہ ان اسناد کی اشاعت ممکن ہے کہ سعودی عرب کے چیچنیا کے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ رابطے کو آشکار کر دے ،ایسا دکھائی دیتا ہے کہ    سعودی عرب کی کوشش ہے کہ پیشگی اقدام کے حت روس کے ساتھ اپنے روابط میں ترمیم کر لے ۔اسی دوران اگر چہ سعودی عرب کا مغربی ممالک کے ساتھ اچھے روابط پر مشرق کے ساتھ اچھے روابط سے زیادہ بھروسہ ہے لیکن ان اسناد کی اشاعت سعودی عرب کے چین اور روس کے روابط پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔

سعودی عرب کی ثقافتی پوزیشن

سعودی عرب سو سیٹیلائٹ چینلز کے ہوتے ہوئےاور دس ارب ڈالر کا سرمایہء سیار رکھتے ہوئے افکار عمومی پر رعب جمانے کی کوشش میں ہے ،لیکن ان اسناد کے فاش ہو جانے نے علاقے کی اور خاس کر لبنان شام اور عراق اور یمن کی ملتوں کے غیظ و غضب میں اس کے خلاف اجافہ کر دیا ہے۔سعودی عرب کی مستقبل میں عام لوگوں کی نظر میں کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے اور تیزی کے ساتھ اکیلا ہو رہا ہے سعودی عرب کی ایک پالیسی علاقے میں مذہبی اختلافات میں اور ایران ہراسی اور شیعہ ہراسی میں  شدت پیدا کرنا ہے  اور اسی طرح علاقے ک بحرانو میں اسرائیل کی سیاسی موقعیت سے فائدہ اٹھانا ہے ۔اگرچہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کہ ان اسناد کی اشاعت سے سعودی عرب کی تخریبی سیاست کے سلسلے میں علاقے کی ملتوں کی معلومات میں اضافہ ہو گا۔   

.......

/169